Download http://bigtheme.net/joomla Free Templates Joomla! 3
Home / Others / مجھ پر جسمانی تشدد، جنسی ہراساں کیا جاتا ہے، سکارف نوچا گیا، قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی،

مجھ پر جسمانی تشدد، جنسی ہراساں کیا جاتا ہے، سکارف نوچا گیا، قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی،

مجھ پر جسمانی تشدد، جنسی ہراساں کیا جاتا ہے، سکارف نوچا گیا، قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی، گندا پانی اور زہر دیا جا رہا ہے، عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے پہلی گفتگو سامنے آگئی ، پاکستانی قونصل جنرل کے تہلکہ خیز انکشافات

مجھ پر جسمانی تشدد، جنسی ہراساں کیا جاتا ہے، سکارف نوچا گیا، قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی، گندا پانی اور زہر دیا جا رہا ہے، عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے پہلی گفتگو سامنے آگئی ، پاکستانی قونصل جنرل کے تہلکہ خیز انکشافات
بدھ‬‮ 13 جون‬‮ 2018 | 14:59
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کئی برس میں پہلی بار بول پڑیں۔ انہوں نے کہا میں ذہنی و نفسیاتی طور پر ٹھیک ہوں، جیل حکام کھانے میں زہر دے رہے ہیں، عملے کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے ، کیس سپروائزر اینی نیبلٹ نے سکارف نوچا اور دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر جنسی تشدد کی کوشش کی، جیل کے سٹاف ممبر رامی ریز نے میری شال پر پیشاب کر دیا جو میں بُن رہی تھی،اسے دوبارہ جیل میں تعینات نہ کیا جائے۔

کیس وکلا کی سستی کی وجہ سے ضائع ہوا،جیل میں عبادت کیلئے پاک جگہ میسر نہیں، سابق امریکی سفیر حسین حقانی میری مدد نہیں کرنا چاہتے تھے ،حسین حقانی کے پرسنل ا سسٹنٹ آصف حسین نے کیس کیلئے حکومت پاکستان کی جانب سے دیئے گئے 20 لاکھ ڈالر میں خورد برد کی، تحقیقات کی جائیں، والدہ کو ملاقات کیلئے نہ لائیں ، ان کیلئے مشکلات ہوں گی۔ روزنامہ 92 کے لاہور سے رپورٹرفرحان احمد خان کے مطابق ا مریکی ریاست ٹیکساس میں واقع خواتین کی جیل فیڈرل میڈیکل سنٹر کارس ویل ( FMC Carswell) میں قید کی سزا کاٹنے والی پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے ملاقات کی ہے جس کی تفصیل 24مئی 2018کوپاکستانی دفتر خارجہ کو بھجوا ئی گئی۔قونصل جنرل کے مطابق ڈاکٹر عافیہ جیل سٹاف سے بہت خوفزدہ ہیں لیکن اس سب کے باوجود وہ پر امید دکھائی دیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے بتایا انہیں اپنے وکیل کیتھے اور سٹیون پر اعتماد نہیں، ان وکلا کی خدمات واپس کی جائیں۔قونصل جنرل کے بقول ڈاکٹر عافیہ اپنی سابق اٹارنی ٹینا فوسٹر پر اعتماد کا اظہار کرتی ہیں۔ ٹینافوسٹر مسلمان ہیں اور انہوں نے عافیہ کے بیٹے کو افغانستان کی خفیہ جیل سے بازیاب کرانے میں مدد کی تھی۔

قونصل جنرل نے جب عافیہ صدیقی سے پوچھا کہ وہ کراچی میں اپنی والدہ سے فون پر بات کیوں نہیں کرتیں تو عافیہ نے بتایا ان کی فون کالز کی سخت نگرانی کی جاتی ہے ، وہ چاہتی ہیں کہ انہیں بھی باقی قیدیوں کی طرح بغیر مداخلت اور نگرانی کے فون کال کی اجازت دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جیل عملے نے اس کی سب چیزیں ضبط کر لی ہیں ۔ جب پوچھا گیا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی والدہ یا بہن ان سے ملنے یہاں آئیں تو انہوں نے منع کرتے ہوئے کہا’’برائے مہربانی انہیں یہاں نہ لائیے ‘‘۔

انہوں نے کہا 2010-11میں بھی جب وہ آئیں تھیں تو انہیں امریکی سکیورٹی اداروں نے گرفتار کر لیاتھااور پھر کافی مشکل سے ان کی رہائی ممکن ہوئی۔قونصل جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ڈاکٹر عافیہ نے گفتگو کے دوران متعدد بار شکایت کی کہ وہ جیل میں فراہم کمرے سے مطمئن نہیں ،جیل کا عملہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کر نے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ جیل عملے خصوصاً کیس سپروائزر اینی نیبلٹ کے رویے سے سخت شاکی ہیں جس نے ان کی چیزیں ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے سر سے سکارف بھی نوچا تھا۔

قونصل جنرل نے کہا کہ اس سے پہلے ہوئی 3 ملاقاتوں میں عافیہ مکمل طور پر اپنے حواس میں نہیں تھیں، انہیں ذہن پر اثر کرنے والی مخصوص دوائیں دیئے جانے کا خدشہ ہے ۔قونصل جنرل نے لکھا جیل کے ایک سابق سٹاف ممبر رامیریز(کوتاہ قد، بھدا اور بدصورت) کا عافیہ نے کئی بار ذکر کیا کہ اس نے عافیہ کی بنائی ہوئی شال پر پیشاب کر دیا تھا، وہ اپنی والدہ کیلئے شال بن رہیں تھیں، عافیہ کو خدشہ ہے کہ مذکورہ شخص اگلے ماہ پھر یہ جیل جوائن کر کے انہیں اذیت پہنچائے گا۔

انہیں نے درخواست کی ہے کہ متعلقہ حکام کو بتایا جائے کہ اس شخص کو جیل میں تعنیات نہ کیا جائے ۔انہیں خوف ہے کہ وہ انہیں جنسی و جسمانی طور پرنقصان پہنچاسکتا ہے ۔ عافیہ نے اس شخص کو عادی جنسی درندہ اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کرنے والا قرار دیا۔ عافیہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے وکیل اینی نیبلٹ نے اپنے دو اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر رواں برس فروری میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی ۔

انہوں نے الزام عائد کیا ایف ایم سی کارس ویل میں ادارہ جاتی سطح پر جنسی تشدد کیا جاتا ہے ، یہاں صرف خدا ہی بچا سکتا ہے ۔قونصل جنرل کی رپورٹ کے مطابق جیل سٹاف نے کئی بار عافیہ کو پاگل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود اپنے آپ کو زخمی کرتی ہے ۔ عافیہ نے کہا ہے وہ میرے کمرے میں داخل ہو کر مجھے تشدد کا نشانہ بناتے اور پھر باہرجھوٹ بولتے کہ یہ سب میں نے خود کیا۔ عافیہ نے جیل عملے پر قران کی بے حرمتی کا الزام بھی عائد کیا ۔

عافیہ نے کہا خوراک میں فاسفیٹ اور فاسفورک ایسڈ کی ملاوٹ کی صورت میں زہر دیا جا رہا ہے ۔ قونصل جنرل کی رپورٹ کے مطابق عافیہ صدیقی مسٹر ای مییئرزنامی صرف ایک اسٹاف ممبر پر اعتماد کا اظہارکرتی ہے لیکن وہ اس سے مدد کی بار بار اپیل اس خوف سے نہیں کرتی کہیں وہ مشکل شکار نہ ہو جائے ۔قونصل جنرل نے عافیہ سے پوچھا کہ کیا وہ ای میل ریسیو کرتی رہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ سب جعلی ای میلز ہیں ، اصلی ای میل ہتھیا لی گئی ہے ۔

عافیہ نے پاکستانی قونصل جنرل سے اصرار کیا کہ وہ رپورٹ کریں کہ وہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر تندرست ہیں اور ان کی ذہنی حالت بھی درست ہے ۔ قونصل جنرل نے عافیہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے 2011میں جج کو لکھا تھا کہ آپ اپنے خلاف سنائے گئے فیصلے کو چیلنج نہیں کرنا چاہتیں تو عافیہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ’’ جی ہاں! کیونکہ مجھے یہاں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں تھی ۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ میں ان کا کیس وکلاء کی نااہلی کہ وجہ سے

The physical violence, sexual harassment on me, the scarf was recited, the Koran was abolished, dirty water and poison, the first talk came from the American prisoner of Aafia Siddiqui, the legitimate revelations of the Pakistani Consul General
June 13, 2018 | 14:59
ISLAMABAD: Aafia Siddiqui, a Pakistani woman, was arrested in the US for the first time in Islamabad. He said, “I am fine and psychologically fine, jail officials are poisoning food, harassment by the staff, case supervisor Anne Neblette scratched a scarf and tried to get sexual violence together with two colleagues.” Prisoner Rammy Ridge, a prisoner of staff, pissed on my shawl, which was being made, should not be deployed in jail again.

Haqqani Haqqani’s personal and system-wise Asif Hussain has given Pakistan’s 20-case case for the case, former Haqqani ambassador to Pakistan, Haqqani Haqqani, did not want to help me. Millionaire dollars are being investigated, parents should not be taken, they will have difficulties. According to Report 92, Lahore, Aafia Farooqui, a Pakistani consul general with Dr. Aafia Siddiqui, who was imprisoned in the Women’s Prison Federal Medical Center, Car Wel, located in Mercy State Texas, according to newspaper 92. The details of which were sent to the Pakistani Foreign Office on May 24, 2018. According to Consul General, Dr. Aafia is afraid of jail staff, but despite all this, he has shown hope. Dr. Aafia Siddiqui said that he was his lawyer and did not trust Steven, to return the services of the lawyer. According to Consulate General, Dr. Aafia expresses confidence in his former Attorney Tina Foster. Tennouster is a Muslim and he helped Aafia’s son to recover from the secret prison of Afghanistan.

When the Consul General asked Aafia Siddiqui why he did not talk to his mother in a phone call in Karachi, Aafia said that his phone calls are strictly monitored, they want them to be treated as interrupted and monitored as other prisoners. Phone call should be allowed. He said the jail staff has seized everything. When asked whether he or her mother or sister came here to meet him, they stopped saying, ‘Please do not bring them here’.

He said that in 2010-11, when he came, American security agencies arrested him and then he could be released very difficult. The lawyer general wrote in his report that Dr. Aafia had complained several times during the conversation that he was imprisoned. I am not satisfied with the provided room, the prison staff tries to harass them sexually. They are strictly shocked by the prison staff, the case supervisor Anne Neblett’s behavior, which he had shifted to his head and scarf his head.

Consul General said that in three meetings before this, Aafia was not entirely in his senses, he was worried to be given special medicines that were affected. The Consulate General wrote a prisoner former member of the prison Ram Rames (Quetta) Aafia, the son of God and his son, has mentioned many times that he had pissed on Aafia’s shawl, he was becoming a shield for his mother, Aafia feared that the person mentioned in the month later, They will hurt.

They have requested that relevant officials to be informed that this person should not be sentenced to prison. He is afraid that he can reach them as sexually and physically. Aafia attributed the person to sexual intercourse and hatred against Muslims. Aafia also accused that his lawyer Anne Nibble combined with her two colleagues, tried to abduct her in February this year this year.

He alleged that FMC is a institutionalized violence on institutional level in Carlos Well, only here can save God. According to the Consulate General, the jail staff repeatedly said Aafia as insane and said that he himself Hurts himself Aafia has said that they would enter my room and target me, and then the outsiders said that I did it myself. Aafia also accused of being abducted on the prison staff.

Aafia said that poisonous and phosphoric acid in the food is being poisoned. According to Consul General’s report, Aafia Siddiqui, Mr E. Mayarenamei, believes only on a Staff Member, but she does not repeatedly appeal with her appeal to fear that she should not be a victim of difficulty. The Consul General asked Aafia. If they are e-mail recycling, they said that all these are fake emails, real email has been removed.

Aafia insisted the Pakistani Consul General to report that he is physically and psychologist and his mental condition is also correct. The consul general asked Aafia whether you wanted to challenge the verdict against you in 2011, when Aafia confirmed it and said, “Yes! Because I did not expect justice from here.

He said that due to the absence of his case lawyers in the US Supreme Court

About admin3

Check Also

اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار لاشوں کو کس نبیؑ کی دعا کے نتیجے میں زندہ کر دیا ان لاشوں کی نسل آج بھی کہاں اور کس حال میں دنیا پر موجود ہے لاشوں کی نسل کو پہچاننے کی ایسی نشانی کہ آپ بھی فوراََ پہچان جائیں، ایمان افروز واقعہ

اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار لاشوں کو کس نبیؑ کی دعا کے نتیجے میں زندہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *